0 تبصرے

google ads me campaign kese lagaien | google ads me new account kese ban...

0 تبصرے

ان شاء ﷲ تعالیٰ


0 تبصرے

اخلاق

0 تبصرے

اللہ کی رحمت

ایک چھوٹا بچہ جو نہانے اور ہاتھ منہ دھلوانے سے گھبراتا ہے اور اس کو نہانے سے تکلیف ہوتی ہے لیکن ماں زبردستی پکڑ کر اس کو نہلادیتی ہے اور اس کا میل کچیل دور کردیتی ہے.. بچہ نہانے کے دوران روتا بھی ہے' چیختا بھی ہے لیکن ماں اس کے باوجود اسکو نہیں چھوڑتی ہے..
اب بچہ تو سمجھ رہا ہے کہ مجھ پر ظلم اور زیادتی ہورہی ہے' مجھے تکلیف پہنچائی جا رہی ہے لیکن ماں شفقت اور محبت کیوجہ سے اس کو نہلارہی ہے' اس کا میل کچیل دور کررہی ہے' اس کا جسم صاف کررہی ہے..
چنانچہ جب بچہ بڑا ہوگا تو اس وقت اس کی سمجھ میں آئے گا کہ یہ نہلانے دھلانے کا جو کام میری ماں کرتی تھی وہ بڑی محبت اور شفقت کا عمل تھا جس کو میں ظلم و زیادتی سمجھ رہا تھا.. اگر میری ماں میرا میل کچیل دور نہ کرتی تو میں گندہ رہ جاتا..
بالکل اسی طرح اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر حالات کی سختی اور آزمائشوں سے گزار کر اسکے گناہوں کو صاف کردیتا ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا اسطرح پاک وصاف ہوجاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو..
اللہ تعالٰی ہم سب کو گناہوں سے بچنے اور ہروقت توبہ واستغفار کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے.. آمین

0 تبصرے

انمول موتی

٭-حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:" کامل ترین ایمان والوں میں سے وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور جس کا برتاؤاپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے زیادہ نرم ہو۔"
(ترمذی)
٭- حضرتِ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو اپنے مال سے غلاموں کو خریدتا ہے پھر ان کو آزاد کرتا ہے، وہ بھلائی کا معاملہ کر کے آزاد آدمیوں کو کیوں نہیں خریدتا جبکہ اس کا ثواب بہت زیادہ ہے؟یعنی جب وہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کریگا تو لوگ اس کے غلام بن جائیں گے۔"
( قضاء الحوائج، جامع صغیر)
٭- حضرتِ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:" وہ مسلمان جو شریعت پر عمل کرنے والا ہو، اپنی طبیعت کی شرافت اور اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے اس شخص کے درجہ کو پالیتا ہے جو رات کو بہت زیادہ قرآن کریم کو نماز میں پڑھنے والا اور بہت روزے رکھنے والا ہو۔"
( مسند احمد)
٭-حضرتِ ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:"(قیامت کے دن) مومن کے ترازو میں اچھے اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی۔"
(ابو داؤد)
٭- حضرتِ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:" تم سب میں مجھے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ لوگ ہونگے جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے۔"
(ترمذی)

0 تبصرے

عرب کی ایک عمدہ عادت


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں میرے ساته نکاح فرمایا اور شوال میں ہی میری رخصتی ہوئی.
( مسلم /1423 ....دارمی 2/145...مسند احمد 54، 206، 6 )
(فائدہ) اسی لئے عرب اپنی عورتوں کےلئےپسند کرتےہیں کہ ان کی شادی بهی شوال میں ہو .
(تفسیرام المومنین عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہا /65 )

منقول عن مولانا ابو زید صاحب دامت برکاتہم العالیہ 

0 تبصرے

گھر بسانے کے گُر

0 تبصرے

اعمال شب جمعہ

٪شبِ جمعہ وجمعہ٪
استادمحترم مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب سے سناکہ شب جمعہ وجمعہ کے دن ہر عمل کوستَّر(۷۰)سے ضرب(ملٹی پلائے)کیاجاتاہے اس حساب سے ایک نیک عمل پرسات سونیکیاں ملتی ہیں ایک مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھنے پرسات سوقرآن پاڪ ڪاثواب ملتاہے ۔
٪آج رات کے اعمال٪
٭سورۃ یٰسین ودخان پڑھنا،
٭کثرت سے درودشریف،
٪کل جمعہ کےاعمال٪
٭سورۃ یٰسین اور کھف کاپڑھنا
٭بعدنماز جمعہ سو بار سُبْحَانَ ﷲِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٰ
پڑھنے والےکے ایک لاکھ اسکے والدین کے چوبیس ہزار (صغیرہ) گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
٭بعدعصر اسِّی مرتبہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ الْنَّبِیِّ الاُمِّیِّ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَبَارِڪْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا.
پرھنےوالےکے اسی سال کے گناہ معاف ہوجاتےہیں،
٭جمعہ کی آخری گھڑی میں دعاءمیں مشغول ہونا.
مفتی امداداللہ شیخ

0 تبصرے

ظالم کو معاف کرنا


حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابوبکر(رضی اللہ عنہ) کو گالیاں دیں، اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم تشریف فرما تھے(اور آپ اس شخص کے مسلسل گالیاں دینے پر اور ابوبکر کے صبر کرنے اور خاموش رہنے پر)تعجّب اور تبسّم فرما رہے تھے، پھر جب اس آدمی نے بہت ہی زیادہ گالیاں دیں(اور زبان کو روکا ہی نہیں) تو ابوبکرؓ نے بھی اس کی بعض باتوں کو اس پر الٹ دیا اور کچھ جواب دیا۔ پس رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کچھ ناراضی کے ساتھ وہاں سے اٹھ کر چلدئے(حضرت ابوبکرؓ کو اس سے بہت فکر لاحق ہوئی، اور وہ بھی معذرت کے لئے اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ناراضی کا سبب معلوم کرنے کے لئے آپ کے پیچھے چلے) پس ابوبکرؓ آپ کے پاس پہونچے اور عرض کیا یارسول اللہ!(یہ کیا بات ہوئی ،کہ) وہ شخص مجھے گالیاں دیتا رہا اور آپ وہاں تشریف فرما رہے، پھر جب میں نے کچھ جواب دیا تو حضور ناراض ہوکر اٹھ آئے؟ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: جب تک تم خاموش تھے اور صبر کررہے تھے، تمھارے ساتھ اللہ کا ایک فرشتہ تھا، جو تمھاری طرف سے جوابدہی کررہا تھا، پھر جب تم نے خود جواب دیا، تو(وہ فرشتہ تو چلا گیا،اور)شیطان بیچ میں آگیا(کیونکہ اسے امید ہوگئی کہ وہ لڑائی کو اور آگے بڑھاسکے گا)
اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: اے ابوبکر تین باتیں ہیں جو سب کی سب بالکل حق ہیں: پہلی بات یہ ہے کہ جس بندے پر کوئی ظلم وزیادتی کی جائے اور وہ محض اللہ عزّ وجلّ کے لئے اس سے درگزر کرے(اور انتقام نہ لے)تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کی بھرپور مدد فرمائیں گے۔ دنیا وآخرت میں اس کو عزّت دیں گے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص صلہ رحمی کے لئے دوسروں کو دینے کا دروازہ کھولے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کو اور بہت زیادہ دیں گے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ جو آدمی (ضرورت سے مجبور ہوکر نہیں، بلکہ)اپنی دولت بڑھانے کے لئے سوال اور گداگری کا دروازہ کھولے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی دولت کو اور زیادہ کم کردیں گے۔(مسند احمد)
(تشریح) انصاف کے ساتھ ظلم کا بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے، لیکن فضیلت اور عزیمت کی بات یہی ہے کہ بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود محض اللہ کے لئے معاف کردے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ چونکہ اخص الخواص میں سے تھے، اس لئے آپؐ نے ان کی طرف سے تھوڑی سی جوابدہی کو بھی پسند نہیں فرمایا۔
قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے:﴿ وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ ۚ﴾’’اور برائی کا (قانونی) بدلہ اسی کی مثل برائی ہے(یعنی جس درجہ کی زیادتی کسی نے کی، اس کے بدلے میں اس کے ساتھ اسی درجہ کی زیادتی کی قانوناً اجازت ہے، لیکن)اللہ کا جو بندہ انتقام نہ لے، اور معاف کردے اور صلح واصلاح کی کوشش کرے تو اس کا خاص اجر وثواب اللہ کے ذمّہ ہے۔)معارف الحدیث۔ج؍۲:ص؍۱۸۴(